اللہ کا ڈر ہی اثاثہ کل ہے۔۔۔ اللہ کا خوف نفس کو خواہشات سے روکتا ہے ، اور نیکی کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔ ایمان افروز تحریر

" >

اللہ کا خوف نفس کو (نفسانی) خواہشات سے روکتا ہے، اور اسے فتنے کے بارے میں ڈانٹتا ہے، اور اسے نیکی اور کامیابی کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔اور اللہ کا خوف توحید کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے، (اس لئے) ضروری ہے کہ وہ(خوف) اللہ ہی کے لئے ہو، اور اللہ کے

علاوہ کسی اور کا خوف ہونااللہ کے ساتھ شرک کرنے کی اقسام میں سے ایک قسم ہے، قرآن مجید کی آیات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارک اور بزرگان دین کے واقعات میں جو اللہ جل شان سے ڈرنے کے جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس کا احاطہ تو دشوار ہے لیکن مختصر طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ دین کے ہر کمال کا زینہ اللہ کا خوف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حکمت کی جڑ اللہ کا خوف ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت رویا کرتے تھے حتیٰ کہ روتے روتے آنکھیں بھی بیکار ہو گئیں تھیں، کسی شخص نے ایک مرتبہ دیکھ لیا تو فرمانے لگے میرے رونے پر تعجب کرتے ہو اللہ کے خوف سے سورج روتا ہے، اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا اللہ کے خوف سے تو چاند بھی روتا ہے، اللہ سے خوف کی ایک جھلک صحابہ اکرامؓ کی زندگی سے تحریر کررہا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو با اجماع اہل سنت انبیاء ؑ کے علاوہ تمام دنیا کے آدمیوں سے افضل ہیں اوران کا جنتی ہونا یقینی ہے کہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنتی ہونے کی بشارت دی بلکہ جنتیوں کی ایک جماعت کا سردار بتایا اور جنت کے سب دروازوں سے ان کی پکار اور بلاوے کی خوشخبری دی اور یہ بھی فرمایا کہ میری امت میں سب سے پہلے ابوبکر ؓ ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت

میں داخل ہونگے اس سب کے باوجود فرمایا کرتے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور اس کو کھا لیتے کبھی فرماتے کاش میں کسی مومن کے بدن کا بال ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک باغ میں تشریف لے گئے اور ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھر ااور فرمایا کہ تو کس قدر لطف میں ہے کہ کھاتا ہے پیتا ہے، درختوں کے سائے میں پھرتا ہے۔ اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب کتاب نہیں، کاش ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تجھ جیسا ہوتا۔ ربیعہ ؓ اسلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی بات پر مجھ میں اور حضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کچھ بات بڑھ گئی اور انہوں نے مجھے کوئی سخت لفظ کہہ دیا جومجھےناگواز گزرا۔فوراً اُن کو خیال ہوا، مجھ سے فرمایا کہ تو بھی مجھے کہد ے تاکہ بدلہ ہو جائے، میں نے کہنے سے انکار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یا تو کہہ لو ورنہ میں حضور ﷺ سے جا کر عرض کروں گا، میں نے اس پر بھی جوابی لفظ کہنے سے انکار کیا۔ وہ تو اُٹھ کر چلے گئے، بنو اسلم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ خود ہی تو زیادتی کی اور خود ہی اُلٹی حضور ﷺ سے شکایت کریں۔ میں نے کہا تم جانتے بھی ہو کہ کون ہیں۔ یہ ابوبکر ؓ صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اگر یہ خفا ہو گئے تو

اللہ کا لاڈلا رسول ﷺ مجھ سے خفا ہو جائے گا۔ اور ان کی خفگی سے اللہ تعالیٰ شانہ ناراض ہو جائیں گے تو ربیعہ ؓ کی ہلاکت میں کیا تردد ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ عرض کیا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تجھے جواب میں اور بدلہ میں کہنا نہیں چاہیے۔ البتہ اس کے بدلہ میں یوں کہہ کہ اے ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تمہیں معاف فرما دیں۔ یہ ہے اللہ کا خوف کہ ایک معمولی سے کلمہ میںحضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بدلہ کا اس قدر فکر اور اہتمام ہوا، کہ اول خود درخواست کی اور پھر حضور ﷺ کے واسطہ سے اس کا ارادہ فرمایا کہ ربیعہ ؓ بدلہ لے لیں۔ آج ہم سینکڑوں باتیں ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں، اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کا آخرت میں بدلہ بھی لیا جائے گا یا حساب کتاب بھی ہوگا۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ بسا اوقات ایک تنکاہاتھ میں لیتے اور فرماتے، کاش میں یہ تنکا ہوتا کبھی فرماتے کاش مجھے میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا، ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول تھے۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ آپ چل کر مجھے بدلہ دلوا دیجئے۔ آپ ؓ نے اس کے ایک دُرہ مار دیا کہ جب میں اس کام کے لیے بیٹھتاہوں اس وقت تو آتے نہیں،جب میں دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہوں تو آکر کہتے ہیں کہ بدلہ دلوا، وہ شخص چلا گیا۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں